کے بارے میں مرکزِ ولایتِ علی پاکستان سندھ

ہمارے مشن، وژن، اور ہمیں آگے بڑھانے والی کمیونٹی کو دریافت کریں

ہم کون ہیں

مرکزِ ولایتِ علی پاکستان (سندھ) کا قیام سنہ 2020ء میں ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن فکری دور میں عمل میں آیا جب مذہبِ تشیع کے بنیادی عقائد کو منظم منصوبہ بندی کے تحت مسخ کیا جا رہا تھا۔ ولایتِ فقیہ، اجتہاد اور تقلیدِ غیرِ معصوم جیسے باطل نظریات کے نام پر ایسی بدعات کو فروغ دیا گیا جو تشیعِ محمد و آلِ محمدؐ کی فکری بنیادوں میں زہرِ قاتل کی مانند سرایت کر چکی تھیں۔ اس فکری یلغار کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ تشیع کی اساس، یعنی ولایتِ مولا امیرالمؤمنین علی علیہ الصلواۃ و السلام اور عزاداریِ سیدالشہداء امام حسین علیہ الصلواۃ و السلام کو باطل فتوؤں کے ذریعے مشکوک، محدود بلکہ بعض مقامات پر حرام قرار دینے کی جسارت کی گئی۔
اس طرزِ فکر نے عالمِ تشیع میں شدید فکری اضطراب، مایوسی اور بے یقینی کو جنم دیا اور عام شیعہ محب و ماتمی عزادار یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آلِ محمدؐ کی عظیم قربانیوں کے ساتھ یہ کیسا ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ اسی دوران قرآنِ مجید کی آیات اور احادیثِ معصومین علیہم السلام کو منبر و محراب سے من پسند، سیاسی اور گمراہ کن تشریحات کے ذریعے مسخ کیا گیا، جبکہ افسوس کہ قوم کے اکثر خطباء و ذاکرین نے مصلحت آمیز خاموشی اختیار کیے رکھی، جو بکے ہوئے ضمیر اور آلِ محمدؐ سے فکری بے وفائی کی واضح علامت تھی۔
ایسے نازک مرحلے پر تاریخِ تشیع کی وہ درخشاں مثالیں شدت سے یاد آئیں جن میں ابوذرِ غفاری کی خود کلامی، سلمان فارسی کا احتجاج، رشید ہجری کی صدائے حق، حجر بن عدی اور طرماح بن عدی کی جرأت، اور میثم تمارؑ کی دار پر استقامت شامل ہیں۔ اگر اس دور میں حق کا علم بلند نہ کیا جاتا تو آج کا شیعہ معاشرہ بحیثیتِ قوم آلِ محمدؐ اور کربلا کے لاکھوں شہداء کے خون سے غداری کا مرتکب ٹھہرتا۔
اسی فکری اور نظریاتی پس منظر میں مرکزِ ولایتِ علی پاکستان (سندھ) وجود میں آیا، جس کی قیادت سید علی رضا شاہ جانی شاہ کے سپرد ہے۔ یہ مرکز ایک منظم نظریاتی پلیٹ فارم ہے جو ذاتی مفادات، سماجی دباؤ اور دنیوی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر خالص تشیعِ محمد و آلِ محمدؐ کے تحفظ اور تشیع کی پامال ہوتی ہوئی اساس کے دفاع کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
مرکزِ ولایتِ علی پاکستان (سندھ) اپنے قیام کے بعد سے فکری طاغوتوں کے خلاف سینہ سپر ہے۔ اس کے وابستگان نے اس جدوجہد میں جان، مال اور اولاد کو راہِ حق میں پیش کرنے کا عزم کیا ہے تاکہ اجتہاد و تقلید غیر معصوم کے فکری نشے میں مبتلا قوم کو دوبارہ خالص مذہبِ محمد و آلِ محمد سے جوڑا جا سکے اور تشیع کو ناصبی و مقصر علماء کے فکری شب خون سے محفوظ رکھا جا سکے۔ الحمدللہ، آج اس جدوجہد کے اثرات پاکستان تک محدود نہیں رہے بلکہ عراق، ایران، شام، لبنان، ہندوستان اور دیگر ممالک تک نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں اور قومِ شیعہ میں فکری بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہو چکی ہے۔
مرکزِ ولایتِ علی پاکستان (سندھ) وجوبِ ولایتِ مولا امیرالمؤمنین علی علیہ صلواۃ و السلام، عزاداریِ امام حسین علیہ الصلواۃ و السلام کے فروغ، تحفظ اور دفاع، حرمتِ سادات کے مکمل تحفظ، اور ولایتِ فقیہ، اجتہاد و تقلید کے فکری و اصولی رد کو اپنی جدوجہد کا بنیادی ستون سمجھتا ہے۔ یہ مرکز حبُّ الوطنی کے جذبے کے تحت وطنِ عزیز پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور آئینی سلامتی کے دفاع کو بھی اپنا دینی و قومی فریضہ قرار دیتا ہے اور ملاّ ازم، تھیوکریسی اور ہر اُس نظام کی صریح نفی کرتا ہے جو مذہب کو سیاسی اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنائے۔
مرکز کا واضح، غیر مبہم اور اصولی عقیدہ یہ ہے کہ الٰہی نظامِ حکومت فقط و فقط امامِ منصوص من اللہ، امامِ مہدی علیہ الصلواۃ و السلام (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) ہی نافذ فرمائیں گے، اور دورِ غیبت میں کسی بھی غیر معصوم فرد، گروہ یا فقہی ڈھانچے کو الٰہی نظام کے نفاذ کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسی بنیاد پر مرکز اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست کو آئین، قانون اور عوامی اختیار کے تحت چلایا جانا لازم ہے، جبکہ مذہب کا کردار سیاسی اقتدار نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی، فکری اور روحانی تربیت ہونا چاہیے۔
مرکزِ ولایتِ علی پاکستان (سندھ) اسی فکری سمت پر ثابت قدمی، وفا اور قربانی کے ساتھ گامزن ہے۔

ہمارا اثر

اعداد و شمار جو ہماری کہانی بیان کرتے ہیں

5

کتابیں شیئر کی گئیں

11

فعال اراکین

215

کمیونٹی صارفین

35

کمیونٹی پوسٹس

ہمارا مشن

ایک جامع پلیٹ فارم بنانا جو افراد اور برادریوں کو علم بانٹنے، ہم خیال لوگوں سے رابطہ قائم کرنے، اور جدید ڈیجیٹل حل کے ذریعے باہمی تعاون سے سیکھنے کو فروغ دینے کا اختیار دیتا ہے۔

ہمارا وژن

ڈیجیٹل کمیونٹی کی مصروفیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بننا، جہاں ہر رکن ایک معاون اور جامع ماحول میں حصہ ڈال سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے، اور ترقی کر سکتا ہے جو جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔

ہماری اقدار

وہ اصول جو ہمارے ہر کام کی رہنمائی کرتے ہیں

ولایتِ علیؑ

امامِ علیؑ کی روحانی و اخلاقی قیادت کے اصول — عدل، شجاعت، عاجزی اور بےلوث خدمتِ خلق کی پابندی۔

ماتمِ حسینؑ

امامِ حسینؑ کی قربانی کی باوقار یاد؛ مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اور ظلم کے خلاف ثابت قدمی کا پیغام۔

حرمتِ سادات

اہلِِبیتؓ کی عزت و وقار کا تحفظ اور ان کی تعلیمات کو الفاظ و عمل میں برقرار رکھنا۔

فکری خودمختاری

علمی خودمختاری اور مشاورت و جوابدہی پر مبنی حکمرانی کا حامی نظریہ؛ ہم غیر محدود اور غیر جوابدہ حاکمیت کے نظریات کے حامی نہیں ہیں۔

ہماری کمیونٹی میں شامل ہوں

کچھ بڑا کا حصہ بنیں۔ ہمارے ساتھ جڑیں، سیکھیں اور بڑھیں۔